ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / توانگ جھڑپ کے بعد چینی ایئربیس پر سرگرمیوں میں اضافہ، اروناچل سے صرف 150کلومیٹر دور ڈرون لڑاکا طیارے تعینات

توانگ جھڑپ کے بعد چینی ایئربیس پر سرگرمیوں میں اضافہ، اروناچل سے صرف 150کلومیٹر دور ڈرون لڑاکا طیارے تعینات

Tue, 20 Dec 2022 19:00:20    S.O. News Service

نئی دہلی،20؍ دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) 9دسمبر کو، اروناچل پردیش کے توانگ میں ہندوستانی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شکست کھانے والے چین نے شمال مشرقی سرحد کے قریب اپنے ایئربیس پر سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ یہاں لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ میکسار ٹیکنالوجی کی سیٹالائٹ امیج میں چین کی سرگرمیاں واضح طور پر دکھائی دے رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چین نے بنگڈا ایئربیس پر سوئرنگ ڈریگن ڈرون تعینات کر دیا ہے۔ یہ ڈرون سیٹالائٹ امیج میں نظر آ رہا ہے۔ بنگڈا ایئربیس اروناچل سرحد سے صرف 150 کلومیٹر دور ہے۔ اس کے بعد ہندوستانی فضائیہ نے گزشتہ جمعرات اور جمعہ کو بھی مشقیں کیں۔ اس سے قبل 11دسمبر کو امریکی دفاعی ویب سائٹ وار زون نے سیٹالائٹ تصاویر جاری کی تھیں جن میں تبت کے شیگتسے امن ہوائی اڈے پر 10چینی طیارے اور 7ڈرون دکھائے گئے تھے۔ چین کے تبت میں نینگچی، شیگٹسے اور ناگاری میں 5ہوائی اڈے ہیں اور وہ ہندوستان-نیپال سرحد کے قریب ہیں۔ چین نے گزشتہ سال لہاسا سے نینگچی تک بلٹ ٹرین شروع کی تھی۔

یہ اروناچل کے قریب ہے۔سوئرنگ ڈریگن ڈرون کے علاوہ تصویر میں ہوائی جہاز کی عارضی پناہ گاہیں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ سوئرنگ ڈریگن ڈرون 2021میں لایا گیا تھا۔ اسے نگرانی، جاسوسی اور حملے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 10گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ڈرون کروز میزائل حملے کا ڈیٹا بھی منتقل کر سکتا ہے تاکہ زمین پر ہدف کو نشانہ بنا سکے۔ ہندوستان کے پاس فی الحال اس زمرے کا کوئی ڈرون نہیں ہے۔


Share: